Aham Khabrain
Har Khabr - Bar Waqt

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور ان سے نجات

35

اہم خبریں : خواتین اپنے حسن کو نکھارنے کے لیے طرح طرح کے طریقے آزماتی ہیں۔

رنگ کو گورا کرنے ، چہرے سے داغ دھبے دور کرنے اور دوسروں سے زیادہ خوب صورت دکھائی دینے کے لیے دن رات محنت کرتی ہیں۔

اسی دُھن میں وہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم نیند کا پورا نہ ہونا ہے۔

موبائل فون کی اسکرین یا کمپیوٹر پر گھنٹوں نظریں جمائے رکھنے سے بھی آنکھوں کے گرد حلقے پڑجاتے ہیں۔

ان کے علاوہ ناقص خوراک، ذہنی تناؤ یا کسی بیماری کے نتیجے میں بھی آنکھوں اور رخسار کا درمیانی حصہ سیاہی مائل ہوسکتا ہے۔ بیماری کی صورت میں اس مرض کا علاج ضروری ہے۔

اس کے علاوہ اسباب ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل ٹوٹکے آزمانے سے حلقوں سے نجات مل سکتی ہے۔


اضافی چربی ختم کرنے کے چکر میں خاتون جان سے ہاتھ دھو بیٹھی


ٹماٹر کا استعمال: ٹماٹر میں قدرتی اجزا شامل ہوتے ہیں ہیں جو حلقوں کو دور کرنے کے لیے بے حد مؤثر ثابت ہوئے ہیں ۔ ایک چمچہ ٹماٹر کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملائیں اور اسے سیاہ حلقوں پہ لگائیں ۔

دس منٹ کے بعد دھو لیں ۔یہ عمل دن میں دو بار دہرائیں ۔ کچھ ہی دنوں میں آپ واضح فرق محسوس کریں گی۔

آلو کا استعمال : چند آلو چھیل کر ان کا رس نکال لیں پھر اسے روئی کی مدد سے آنکھوں کے گرد لگائیں ۔

دس منٹ بعد سادھے پانی سے منہ دھو لیں۔ روزانہ یہ عمل کرنے سے حلقے مدھم پڑھنے شروع ہوجائیں گے۔

ٹی بیگ : ٹی بیگ کو پانی میں بھگو لیں اور اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے فریزر میں کچھ دیر کے لیے رکھ دیں۔

اب اس ٹھنڈے ٹی بیگ کو دس منٹ کے لیے آنکھوں کے اوپررکھیں۔ چند دنوں میں ہی فرق محسوس ہونے لگے گا۔

دودھ: ٹھنڈے دودھ کو روئی کی مدد سے آنکھوں کے گرد لگائیں ۔ اس سے بھی واضح فرق نظر آئے گا ۔

کینو کا جوس : کینو کے جوس میں چند قطرے گلیسرین ملا کر حلقوں پہ لگائیں۔ یہ نہ صرف حلقوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے بلکہ ان میں قدرتی چمک بھی پیدا کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ نیند اپنے وقت پہ لینا اور دن میں آٹھ گلاس پانی پینا بھی اس کا علاج ہے ۔

اگر آنکھوں میں تھکاوٹ محسوس ہو تو جو بھی کام آپ کر رہی ہیں اسے اسی وقت چھوڑ دیں ۔ زبردستی آنکھوں کو تکلیف نہ دیں ۔ان تمام باتوں پہ عمل کر کے آپ خوب صورتی کو گہن لگانے والے حلقوں سے نجات پاسکتی ہیں۔

Comments are closed.