Aham Khabrain
Har Khabr - Bar Waqt

حضور اکرمﷺ کا اخلاق کریمہ

31

حضور اکرمﷺ کا اخلاق کریمہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ اور رمضان میں جب حضرت جبرائیل ؑ آپ ﷺ سے ملا کرتے تو بہت ہی سخی ہوتے ۔ غرض آنحضرتﷺ (لوگوں کو) بھلائی پہچانے میں چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔ (بخاری ، جلد اول کتاب الوحی، حدیث نمبر5)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک گنوار کھڑا ہوکر مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔لوگوں نے اس کو للکارا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ،چھوڑو جانے دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں ایک بھرا ہوا پانی کا ڈول بہادو کیونکہ تم لوگوں پر آسانی کرنے کو بھیجے گئے اور سختی کرنے کو نہیں بھیجے گئے۔ (بخاری ،جلد اول کتاب الوضوع، حدیث نمبر218)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر کام میں جہاں تک ہوسکتا ،داہنی طرف سے شروع کرنا پسند کرتے تھے، طہارت میں، کنگھی کرنے میں، جوتا پہننے میں۔(بخاری، جلد اول کتاب الصلوۃ ،حدیث نمبر412)

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے کہا، آنحضرتﷺ کا حال جو تورات شریف میں مذکور ہے، وہ مجھ سے بیان کرو۔انہوں نے کہا، اچھا خدا کی قسم !آنحضرتﷺ کی بعض صفتیں تورات میں وہی مذکور ہوئی ہیں جو قرآن میں ہیں۔ اے پیغمبر ہم نے تجھ کو گواہ بناکر بھیجا اور خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا ان پڑھ لوگوں یعنی عربوں کو بچانے والا، تو میرا بندہ ہے اور پیغام والا ،میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے نہ اکل کھرا ہے نہ سخت دل، نہ بازاروں میں غل مچانے والا اور برائی کا بدلہ برائی نہیں کرتا بلکہ معاف کرتا ہے اور بخش دیتا ہے اور اللہ اس پیغمبر کو دنیا سے نہیں اٹھائے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرے یعنی لوگ لا الہ الا اللہ نہ کہنے لگیں اور اس کے سبب سے اندھی آنکھیں، بہرے کان، غلاف چڑھے دل کھول نہ دے۔ (بخاری ،جلد اول کتاب البیوع ،حدیث نمبر1993)


محرم الحرام تاریخ کے آ ئینہ میں


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک درزی نے رسول اکرم ﷺ کی دعوت کی اور کچھ کھانا تیار کیا۔ میں بھی ساتھ گیا۔ اس نے آپ ﷺ کے لیے جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور گوشت تھا۔ میں نے دیکھا آپ ﷺ پیالے میں کدو تلاش کررہے تھے۔ میں اسی دن سے کدو سے محبت رکھتا ہوں۔(مسلم ،کتاب الاشرب?)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اکرم ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا گیا اور آپ ﷺ نے انکار فرمایا ہو۔ (مسلم ،کتاب الفضائل)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں مانگیں تو آپ ﷺ نے اسے اتنی ہی بکریاں عطا فرمادیں۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا، اے قوم اسلام قبول کرلو۔ اللہ کی قسم، محمدﷺ اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ پھر محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا۔ ایک شخص سوائے دنیا حاصل کرنے کے اسلام قبول نہیں کرتا (یعنی صرف دنیا کے مال و متاع کے لالچ میں اسلام قبول کرتا ہے) لیکن مسلمان ہونے کے بعد آپ ﷺ کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے اسے اسلام ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہوجاتا ہے۔ (مسلم ،کتاب الفضائل)

حضرت ابی سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا کرنے والے تھے۔ جب آپ ﷺ کو کوئی چیز ناپسند ہوتی تو ہم آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے جان لیتے۔ (مسلم ،کتاب الفضائل)

حضر ت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے اور کہا، رسول کریمﷺ نہ ہی طبعاً بدگمانی کرتے تھے اور نہ ہی تکلفاً۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ،تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔(مسلم ، کتاب الفضائل)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ کو جب دو کاموں میں سے ایک کام کرنے کا اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ان میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے تھے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو اور اگر گناہ کا کام ہو تو آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر اس کام سے دور رہتے۔ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی سے اپنی ذات کی وجہ سے انتقام نہیں لیا لیکن اگر کوئی آدمی اللہ کے حکم کے خلاف کام کرتا تو آپ ﷺ اسے سزا دیتے تھے۔(سنن ابی داوْد، جلد سوئم کتاب الادب :4785)(مسلم ،کتاب الفضائل)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ ہی کسی عورت کو، نہ ہی کسی خادم کو۔ البتہ فی سبیل اللہ قتال فرمایا اور جب بھی آپ ﷺ کو نقصان پہنچایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیتے تھے۔ (مسلم،کتاب الفضائل)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ ہمارے پاس دن میں تشریف لائے اور سوگئے۔ آپ ﷺ کو پسینہ آیا ۔میری والدہ ایک شیشی لے کر آئیں اور آپ ﷺ کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا، اے ام سلیم یہ کیا کررہی ہو؟ انہوں نے کہا ،یہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے جس کو ہم خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے بہترین خوشبو ہے۔(مسلم ،کتاب الفضائل)


مسجد نبوی کی توسیع


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا قدر درمیانہ تھا۔آپ ﷺ کانہ بالکل گورا رنگ تھا اور نہ بالکل گندمی اور نہ بالکل گنگھریالے بال تھے نہ بالکل سیدھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو 40 سال کی عمر میں نبوت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ 10 سال مکہ مکرمہ میں رہے۔63 سال کی عمر میں آپ ﷺ نے وصال فرمایا اور اس وقت آپ ﷺ کے سر اور ڈاڑھی مبارک میں 20 بال بھی سفید نہیں تھے۔ (مسلم ،کتاب الفضائل )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو کسی شخص کے بارے غلط خبر پہنچتی تو آپ ﷺ یہ فرماتے کہ فلاں شخص کو کیا ہوگیا (یعنی نام نہ پکارتے) بلکہ یوں فرماتے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، وہ اس طرح کرتے ہیں۔ (سنن ابی داوْد، جلد سوئم کتاب الادب4788)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام بالکل واضح ہوتا کہ ہر سننے والا سمجھ جاتا۔ (سنن ابی داوْد، جلد سوئم کتاب الادب:4739)

Comments are closed.