Aham Khabrain
Har Khabr - Bar Waqt

اسپرین کینسر کے مریضوں کیلئے فائدہ مند

40

پرتھ(اہم خبریں) حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بعض اقسام کے کینسر میں مبتلا مریضوں کو اگر اسپرین بھی دی جائے تو سرطان کے خلاف دوا کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔

اس سے سرطان کی ان اقسام کے علاج کی امید،

بھی پیدا ہوئی ہے جو بہت مشکل سے قابو آتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ کینسر کی درجنوں اقسام ہیں،

جنہیں خلیات (سیلز) کی اقسام، ان کے اندرونی ماحول،

جینیاتی تبدیلی اور خلوی سرگرمی سمیت کئی لحاظ سے بیان کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرطان سے جنگ اس وقت دنیا کےلیے،

ایک بڑا چیلنج ہے اور کینسر کو امراض کا جمگھٹا بھی کہا جاتا ہے۔

ان میں سے کچھ جین کا مجموعہ آر اے ایس کہلاتا ہے،


سردیوں کی بیماری میں آرام کرنا صحت کیلئے نقصان دہ


اور اس سے وابستہ سرطان کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے۔

اگر آر اے ایس جین میں تبدیلی (میوٹیشن) آجائے تو لبلبے،

آنتوں اور پھیپھڑوں کا سرطان لاحق ہوجاتا ہے،

جس میں جلد کے بعض کینسر بھی شامل ہیں۔

اسی لیے اب تک اس کے خلاف کوئی مؤثر دوا نہیں بن سکی ہے۔

سورافینب نامی ایک دوا سے پھیپھڑوں کے سرطان کے،

علاج میں کچھ افاقہ ضرور ہوا ہے لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹس ہیں.

جن کی بنا پر بعض مریضوں کو فیز تھری ٹرائل میں ہی دوا ترک کرنا پڑی تھی۔

اس تناظر میں اسپرین یا ایسیٹائل سیلی سائیلک ایسڈ،

قدیم زمانے سے زیرِ استعمال ہے یہاں تک کہ 2400 برس،

پہلے بقراط نے بھی سیلی سائیلک چائے کے فائدے بیان کیے ہیں۔


آئس کی تیاری میں زائد المعیاد ادویات کے استعمال کا انکشاف


نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اسپرین آنتوں،

کے کینسر کے علاج میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس ضمن میں ایک بڑا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا،

کہ مسلسل اسپرین کھانے سے ہاضمے کی نالی کے سرطان،

کے خطرات نصف رہ جاتے ہیں۔

اسی بنا پر آسٹریلیا کی کوئنزلینڈ یونیورسٹی میں تحقیق کی گئی.

کہ آیا سورافنیب کے ساتھ اسپرین کھانے سے،

آر اے ایس میوٹیشن والے سرطان پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟۔

ماہرین نے بتایا کہ پھیپھڑے کے سرطان میں مبتلا چوہوں،

کو جب سورافنیب کے ساتھ اسپرین دی گئی تو اس سے بہت اچھے نتائج حاصل ہوئے۔

اس کے علاوہ آر اے ایس کی وجہ سے ہونے والے جلد کے،

سرطان میں بھی افاقہ ہوا۔

اس ضمن میں ڈاکٹر ہیلمٹ شائڈر نے کہا کہ اگر اس قسم کے،

کینسر میں دواؤں کے ساتھ اسپرین کی زیادہ مقدار ملا کردی جائے،

تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین پریقین ہیں کہ سورافنیب کے ساتھ اسپرین دی جائے،

تو دوا کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور اس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی کم ہوتے ہیں۔

اس سے کینسر پھیلنے کی رفتار سست ہوجاتی ہے،

اور ممکنہ طور پر رسولیوں کے واپس بننے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں اسپرین اور سورافنیب کو انسانوں پر آزمایا جائے گا.

لیکن یہ منزل ابھی دور ہے اور اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اگر اس ضمن میں کامیابی ہوئی تو اسپرین،

کو مزید پیچیدہ اقسام کے کینسر کے علاج معالجے میں آزمایا جاسکے گا۔

Comments are closed.