Aham Khabrain
Har Khabr - Bar Waqt

آٹھ (8) سیاروں پر مبنی نیا نظام شمسی دریافت

41

واشنگٹن(اہم خبریں)ناسا نے ہفتوں کی ہلچل اور اعلانات کے بعد آج اپنی اہم دریافت سے دنیا کو آگاہ کردیا جس میں زمین سے بہت دور ایک ایسے نظامِ شمسی کو دریافت کیا گیا ہے.

جس کے گرد آٹھ عدد سیارے گردش کررہے ہیں۔

اسے ناسا کی جدید ترین کیپلر خلائی دوربین سے دیکھا گیا ہے

لیکن اس کے انتہائی ضخیم ڈیٹا بیس کو گوگل آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی)

سافٹ ویئرز کی مدد سے غور کرنے کے بعد 14 دسمبر کو اس کا لائیو نشریات

میں اعلان کیا گیا، ناسا کے مطابق اس سسٹم کا نام کیپلر 90 ہے.

جو زمین سے 2 ہزار 545 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے

جس کے مرکز میں ہمارے سورج کی طرح ایک ستارہ ہے

اور اس کے گرد آٹھ سیارے گھوم رہے ہیں۔

اس سسٹم میں ایک گرم پتھریلا سیارہ بھی ہے

جس کا نام کیپلر 90 آئی ہے اور گوگل کے مشین لرننگ نظام سے معلوم ہوا ہے

کہ یہ سیارہ اپنے سورج کے گرد 14.4 دن میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے،

گوگل نے ناسا کے عظیم ڈیٹا میں سے کارآمد معلومات اخذ کرنے کے لیے

مصنوعی ذہانت کا یہ عظیم ترین نظام تیار کیا ہے

جس میں حیرت انگیز کامیابی ہوئی ہے،

ان سیاروں کو ایکس پلانٹس یا بیرونی سیارے کہا جاتا ہے

جو آئے دن ہمارے نظامِ شمسی سے دور دریافت ہوتے رہتے ہیں۔

اس موقع پر واشنگٹن میں واقع ناسا ایسٹروفزکس ڈویژن کے سربراہ

پال ہرٹز نے کہا کہ ’ہماری توقعات کے عین مطابق کیپلر ڈیٹا کے ذخیرے

میں حیرت انگیز دریافتیں ہماری منتظر ہیں

اور ہمیں انہیں کھوجنے کے لیے درست ٹیکنالوجی کی تلاش تھی جو ہمیں مل چکی ہے،

علاوہ ازیں یہ ڈیٹا دنیا بھر کے ماہرین کے لیے اگلے کئی برس تک ایک بڑا خزانہ ثابت ہوگا۔

اس کے لیے ماہرین کرسٹوفر شیلو اور اینڈریو وینڈربرگ نے کیپلر دوربین

تک آنے والے سگنل اور ڈیٹا کو کمپیوٹر میں ڈالا تاکہ وہ روشنی کے ننھے منے نقطوں کی

تبدیلی سے یہ اندازہ لگائیں کہ آیا یہ کوئی ستارہ ہے یا سیارہ ہے۔

اس حوالے سےنیورل نیٹ ورک کا ایک انتہائی

جدید نظام گوگل کی مدد سے تیار کیا گیا ہے.

اس کے بعد ستاروں کے ایک غیرمعروف جھرمٹ ڈریکو میں

یہ نظام اپنے آٹھ سیاروں سمیت دریافت کیا گیا

اس طرح اس دریافت میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور مدد لی گئی۔

کیپلر 90 آئی ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور اپنے سورج سے بہت قریب ہے

اسی وجہ سے اس کا درجہ حرارت 800 درجے فارن ہائٹ تک ہوتا ہے

لیکن یہ پورا سسٹم ہمارے نظامِ شمسی سے ملتا جلتا ہے

جس میں چھوٹے سیارے اندر اور بڑے سیارے بیرونی جانب ہیں۔

کرسٹوفر شیلو فلکیات اور ڈیٹا سائنس کے ماہر ہیں

اور انہوں نے ڈیٹا مائننگ کے ذریعے آسمانوں میں نئی دریافتوں پر اہم کام کیا ہے،


نمی یا پانی ڈالنے کی صورت شفاف اور دھندلا ہوجانے والا نینو شیشہ


ان کے مطابق جہاں انسانی آنکھ اور سمجھ بوجھ ناکام ہوجاتی ہے

وہاں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت نئے سیاروں کی

دریافت میں ہماری بہت مدد کرسکتی ہے۔

سائنسدانوں نے کیپلر خلائی دوربین کے چار سالہ ڈیٹا سیٹ پر غور کیا تو معلوم ہوا

کہ کم سے کم 35 ہزار مقامات ایسے ہیں

جہاں روشنی کے سگنل کسی نئے نظام یا سیارے کا پتا دے سکتے ہیں.

ان میں سے کمزور سگنل انسانی آنکھ سے اوجھل رہ جاتے ہیں

پہلے کمپیوٹر میں کامیاب سیاروں کی روشنی اور سگنل ڈالے گئے

تاکہ وہ انہیں پہچاننے کا عادی ہوجائے ان سگنلز کی تعداد 15 ہزار تھی،

اس طرح کمپیوٹر سافٹ ویئر 96 فیصد درستگی کے ساتھ سیاروں

اور نئے نظاموں کو شناخت کرنے کے قابل ہوگیا

اور اس کے بعد اسے نیا ڈیٹا دیا گیا جس سے اس نے یہ اہم دریافت کی ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین نے کیپلر 80 سسٹم بھی دریافت کیا ہے

جس کا چھٹا سیارہ کیپلر 80 جی ہے اور اس کا رقبہ ہماری زمین جیسا ہی ہے

یہ تمام تحقیقات ایک سائنسی جریدے نے اشاعت کے لیے منظور کرلی ہیں۔

Comments are closed.