Aham Khabrain
Har Khabr - Bar Waqt

جیب میں سما جانے والا ایئرکنڈیشنر ایجاد

30

سان فرانسسكو (اہم خبریں) یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے انجینئروں نے ایک چھوٹا سا کولر بنایا ہے جسے آپ جیبی ایئرکنڈیشنر بھی کہہ سکتے ہیں۔

ہفت روزہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی تحقیقات

کے مطابق اسے تھرمو الیکٹرک کولر کا نام دیا گیا ہے

جو بہت کم توانائی استعمال کرتا ہے

اور ماحول دوست بھی ہے۔

اس کے برخلاف بڑے بڑے ایئرکنڈیشنر ٹھنڈک

کو ممکن بنانے والی گیسیں استعمال کرتے ہیں

جنہیں چلانے کےلیے ایک جانب بہت بجلی درکار ہوتی ہے

تو دوسری جانب وہ فضا میں خطرناک گیسیں خارج کرکے ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

تاہم یہ نیا آلہ بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتا ہے۔

جیبی ایئرکنڈیشنر ’الیکٹروکیلورک اثر‘ کے تحت کام کرتا ہے

یعنی جب اس میں بجلی گزاری جاتی ہے

تو الیکٹرک فیلڈ خاص مٹیریل سے گرمی کو نکال باہر کرتی ہے۔

اس کےلیے سائنس دانوں نے ایک خاص قسم

کا پولیمر استعمال کیا اوراسے گرمی خارج کرنے (ہیٹ سورس) اور

گرمی جذب کرنے والے (ہیٹ سِنک) مٹیریل کے درمیان موجود کھلی جگہ رکھا گیا۔

جب پولیمر ہیٹ سنک کو چھوتا ہے.

تو اس دوران ایک الیکٹرک فیلڈ بھی دوڑائی جاتی ہے۔

اس فیلڈ سے پولیمر کے مالیکیول ایک قطار میں آجاتے ہیں

اور گرمی کو ہیٹ سنک کے جانب دھکیلتے ہیں۔

اگلے مرحلے میں پولیمر دوبارہ حرارت جذب کرتا ہے

اور اسے ہیٹ سنک تک پہنچاتا ہے،

یوں یہ چکر بار بار چلتا رہتا ہے۔

ایک جانب تو یہ کولر بہت سستا ہے تو دوسری جانب یہ ماحول دوست بھی ہے۔

اس طرح بڑے بڑے ایئرکنڈیشنگ سسٹمز کی ضرورت نہیں رہے گی

اور ان کی جگہ انفرادی کولنگ سسٹم رائج ہوسکیں گے۔

دوسری جانب اس سے بجلی کی حیرت انگیز بچت ممکن ہوسکے گی۔

ابتدائی تجربے کے بعد ماہرین نے اسے ایک درجے آگے تک پہنچایا ہے۔

انہوں نے لچک دار مادے سے یہ کولر بنایا ہے

اور اسے سام سنگ گیلیکسی ایس فور پر استعمال کیا ہے۔


تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ بس اسٹاپ


حیرت انگیز طور پر اس کی بیٹری 8 درجے سینٹی گریڈ تک ٹھنڈی ہوگئی۔

یہ روایتی ایئرکنڈیشنر کی جگہ تو نہیں لے سکے گا

لیکن مستقبل میں پہنے جانے والے آلات (ویئرایبلز) کو ٹھنڈا رکھنے

میں بہت اہم کردار ادا کرسکے گا۔

اس کے علاوہ اس کے استعمال سے ٹھنڈا رکھنے والے

کپڑے اور ملبوسات بھی بنائے جاسکیں گے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.