134

کورونا اور کووڈ دو جڑواں بچے

ہمسایہ ملک کی ریاست چھتیس گڑھ کےشہررائے پور میں ایک غریب جوڑے کے ہاں کےدنوں میں دوجڑواں بیٹوں کی پیدایش ہوئی تو ان کی پیدائش کے بعد اسپتال کے عملہ نے دل لگی کے طور پر ایک کو کورونا جبکہ دوسرے کو کویڈ کے نام سے پکارنا شروع کردیاجس پر ان کے والدین نے بھی بچوں کے یہی نام رکھنے کا فیصلہ کر لیا ۔
بچوں کی ماں پریتی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام اس وبائی مرض کے نام پر اس لیےبھی رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا کہ ان کی ولادت کروناکے تکلیف دہ ایام میں ہوئی ہے لہذا طویل لاک ڈاٶن میں ان بچوں کی ولادت ہمارے خاندان کے لیے زحمت کے بعد راحت کی نوید ہے ۔اور دوسرا یہ نام ہمیں ان دنوں کو یاد رکھنے بھی معاون ہوں گے ۔کہتے ہیں کہ ان دوبچوں کے ناموں کا شہر بھر میں چرچا ہے اور دوردراز سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں۔۔

جڑواں بچے دو قسم کے ہوتے ہیں – identical اور fraternal جو بچے جڑواں ہوتے ہیں ان میں فرٹیلائیزیشن کے بعد بیضہ جب تقسیم ہونے لگتا ہے تو وہ بجائے ایک ہی جگہ اکٹھا رہنے کے دوالگ الگ خلیے بن جاتے ہیں جو دو مکمل بچوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں – ایسے بچے ہمیشہ ایک ہی جنس کے ہوتے ہیں اور ہم شکل ہوتے ہیں دوسری صورت میں ماں کی اووری سے دو بیضے خارج ہوتے ہیں جو الگ الگ سپرم سے فرٹیلائیز ہوتے ہیں اور دو بچے بنتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں – ان کی جنس مختلف ہو سکتی ہے اور ان کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں – ایسے کیسز بھی موجود ہیں جن میں ان جڑواں بچوں کے باپ بھی مختلف تھے لیکن یہ بہت کم کیسز میں ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں