55

کورونا اور کووڈ دو جڑواں بچے

ہمسایہ ملک کی ریاست چھتیس گڑھ کےشہررائے پور میں ایک غریب جوڑے کے ہاں کےدنوں میں دوجڑواں بیٹوں کی پیدایش ہوئی تو ان کی پیدائش کے بعد اسپتال کے عملہ نے دل لگی کے طور پر ایک کو کورونا جبکہ دوسرے کو کویڈ کے نام سے پکارنا شروع کردیاجس پر ان کے والدین نے بھی بچوں کے یہی نام رکھنے کا فیصلہ کر لیا ۔
بچوں کی ماں پریتی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام اس وبائی مرض کے نام پر اس لیےبھی رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا کہ ان کی ولادت کروناکے تکلیف دہ ایام میں ہوئی ہے لہذا طویل لاک ڈاٶن میں ان بچوں کی ولادت ہمارے خاندان کے لیے زحمت کے بعد راحت کی نوید ہے ۔اور دوسرا یہ نام ہمیں ان دنوں کو یاد رکھنے بھی معاون ہوں گے ۔کہتے ہیں کہ ان دوبچوں کے ناموں کا شہر بھر میں چرچا ہے اور دوردراز سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں۔۔

جڑواں بچے دو قسم کے ہوتے ہیں – identical اور fraternal جو بچے جڑواں ہوتے ہیں ان میں فرٹیلائیزیشن کے بعد بیضہ جب تقسیم ہونے لگتا ہے تو وہ بجائے ایک ہی جگہ اکٹھا رہنے کے دوالگ الگ خلیے بن جاتے ہیں جو دو مکمل بچوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں – ایسے بچے ہمیشہ ایک ہی جنس کے ہوتے ہیں اور ہم شکل ہوتے ہیں دوسری صورت میں ماں کی اووری سے دو بیضے خارج ہوتے ہیں جو الگ الگ سپرم سے فرٹیلائیز ہوتے ہیں اور دو بچے بنتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں – ان کی جنس مختلف ہو سکتی ہے اور ان کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں – ایسے کیسز بھی موجود ہیں جن میں ان جڑواں بچوں کے باپ بھی مختلف تھے لیکن یہ بہت کم کیسز میں ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں