123

کرایہ دار کی مالک مکان کی بیٹی سے محبت

علی بہت اچھے مالک مکان ثابت ہوا تھا ۔ میں نے پورشن گزشتہ ماہ وقت کرایہ پر لیا تھا جب میری پوسٹنگ اس شہر میں ہوئی تھی ۔ میں ایک انجنئیر ہوں اور اس شہر بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرائض سر انجام دے رہا ہوں ۔ علی نے پورشن کا کرایہ بھی بہت ہی مناسب رکھا۔

بلکہ اس کرائے میں بجلی، پانی وغیرہ کا بل بھی شامل ہے۔ ابھی مجھے اس پورشن میں رہائش پذیر ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ ایک دن علی نے مجھے یہ پیشکش کی کہ ان کے گھر کا کھانا کھایا کروں۔ میں تو پہلے ہی بازاری کھانوں سے تنگ آیا چکا تھا ۔ میں نے ان کی یہ پیشکش بغیر کسی مزاحمت کے قبول کر لی۔میں دفتر سے آتا تو مجھے پورشن بلکل صاف ستھرا ملتا، ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوتی ملتی۔تازہ کھانا ملتا جو کہ نہایت مزیدار ہوتا۔ میں نے کھانے اور پورشن کی صفائی و ستھرائی کی تعریف کی تو علی نے بتایا کہ یہ سب ان کی بیٹی کا کام ہے۔ علی جب بھی ملتے اپنی بیٹی کی خوب تعریف کرتے۔مجھے کھانا کا ناشتہ اکثر وہی دیتی تھی ۔ کمرے کے اندرونی دروازے پر دستک دیتی، میں دروازہ کھولتا تو وہ دروازے کی آوٹ سے ہی کھانے کی ٹرے مجھے پکڑا دیتی۔ہوئی۔

ایک دن میں اپنے دفتر میں تھا کہ میرے سیل فون پر “ ہیلو “ کا میسج آیا ۔ ھائی ۔۔مگر آپ کون ؟ میں نے جوابی میسج کیا ۔ جواب آیا “ نادیہ علی” آپ کے مالک مکان کی بیٹی ۔ اس میسج سے شروع ہونے والا سلسلہ پہلے دوستی میں اورکرتے کرتے ایک دوسرے کی محبت میں بدل گیا۔دن اور رات رومانوی پیغامات کرتے گزرنے لگے۔سالگرہ آئی تو نادیہ نے مجھے ایک شرٹ گفٹ کی۔اس نے یہ شرٹ خاموشی سے میرے کمرے رکھ دی تھی۔میں نے اگلے دن گفٹ کے طور پر چوڑیاں اور کچھ اور جیولری دی دی۔جو اس نے قبول کرلی۔یہ سلسلہ کئی ماہ ایسے ہی چلتا رہا مگر ہم نے کبھی آمنے سامنے بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی ملے۔ بس سیل فون اپ پر پیغامات کے زریعے ہی رابطہ تھا۔ وہ کسی چیز کی فرمائش کرتی تو میں دیتا اور وہ اٹھا کر لے جاتی تھی۔ میں اس سے کوئی چیز کھانے کی فرمائش کرتا تو اگلے ہی دن وہ چیز آئی ہوتی ۔ایک دن میں دفتر میں کام کر رہا تھا کہ اچانک علی میرے آفس میں داخل ہوئے ۔ وہ بڑے غصے میں نظر آ رہے تھے ۔ کسی سلام و دعا کے بغیر ہی وہ مجھ پر برس پڑے ۔ کہ رہے تھے کہ میں نے ان کی عزت خاک کر دی۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے ایک سیل فون میری میز پر پٹخا اور چلا کر بولے” یہ میری بیٹی نادیہ کا فون ہے” یہ سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

ھماری محبت کا بھانڈہ پھوٹ چکا تھا۔علی اونچی آواز میں پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہے جا رہے تھے۔میں نے اٹھ کر دروازہ بند کیا اور علی کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے۔میں نے ان کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کی اور اپنے آپ کو ان کے سامنے ہر سزا کے لئے پیش کردیا جس پر وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگے۔کچھ دیر بعد بولے” اب دو ہی راستے ہیں ، ایک یہ کہ میں تمہارے دفتر کے تمام ساتھیوں کے سامنے سارا معاملہ رکھ دوں ۔ اور دوسرا ؟ میں نے بے صبری سے پوچھا۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تم عزت کے ساتھ نادیہ کو اپنا لو۔میں نے کہا کہ مجھے شادی کرنا منظور ہے مگر مجھے اس کے لئے کچھ وقت دیں تاکہ میں اپنے والدین سے بات کر سکوں ۔علی نے کہا کہ وہ مجھے وقت نہیں ہے نکاح آج ہی ہوگا۔مرتا کیا نہ کرتا۔۔نماز مغرب کے بعد دفتر کے ساتھیوں اور اہل محلہ کی موجودگی میں میرا نکاح پڑھا دیا گیا۔نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ نکاح نامے پر دلہن کے دستخط والی جگہ پر انگوٹھا لگا ہوا تھامگر میں نے کوئی خاص دھیان نہ دیا نادیہ کو بیاہ کر پورشن میں لے آیا اور رسمی دُعا سلام کے بعد اُس سے پُوچھا کے اُس نے نکاح نامے پر انگوٹھا کیوں لگایا ، دستخط کیوں نہیں کیے؟۔

نادیہ نے جواب دیا کے اُس کے پیدا ہوتے ہی اُس کی ماں گُزر گئی تھی جس وجہ سے وہ پڑھ لکھ نہیں سکی، میں نے اُس سے پُوچھا کے سیل فون پر میسج کیسے ٹائپ کرتی تھی، جس پر نادیہ نے جواب دیا کہ اُس کے پاس تو کوئی موبائل نہیں ہے۔کمرے سے باہر صحن میں علی صاحب کے قہقتوں کی آوازیں آ رہی تھیں وہ ضرورت سے بہت زیادہ خوش لگ رہے تھے اور ادھر میرا دماغ پھٹتا جا رہا تھا، پھٹتا جارہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں