74

سائنسدانوں نے جہنمی چیونٹی دریافت کر لی

اس سے پہلے بھی جہنم چیونٹی’ کے امبر فوسل میں پائے جاچکے ہیں ، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انسانوں نے ان ناپاک چیونٹیوں کو زندہ دیکھا۔

ڈایناسار کی ہم عمر یہ چیونٹی کے سروں میں ایک غیر معمولی خصوصیت ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ایک سینگ کے ساتھ شکار کو نچے دباتا تھا۔ یہ واقعتا یہ محض ایک اندازہ ہی تھا کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ یہ اپنے سینگوں کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ لیکن حال ہی میں امبریو کے اندر دیکھی جانے والی اس ‘جہنمی چیونٹی’ سے سب واضع ہو گیا۔

سائنس الرٹ کے مطابق ، چیونٹی کی شناخت ایک نئے جاندار کے طور پر کی گئی ہے جو 99 ملین سال پہلے رہتے تھے جس کا نام سیراٹومائرمیکس ایلنبرجری (جہنمی چیونٹی’) تھا۔ اس جہنم چیونٹی پر ایک مطالعہ اگست 2020 کے اوائل میں جرنل کرنٹ بیالوجی میں شائع ہوا۔ چیونٹی برمی امبریو کے ٹکڑے کے اندراس وقت پائی گئی جب وہ اپنے شکار پر حملہ کررہی تھی

نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ میں سماجی کیڑوں کے ارتقا کا مطالعہ کرنے والے فلپ بارڈن نے کہا ، ‘چونکہ پہلی جہنم چیونٹی کو تقریبا سو سال قبل کھوج کیا گیا تھا لیکن یہ ایک معمہ رہا ہے کہ یہ ناپید چیونٹی ہماری آج کی چیونٹیوں سے اتنی الگ کیوں ہیں؟

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سینگ کھانا کھلانے کے لئے یا شکار کو پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن یہ محض اندازہ تھا۔ اب ، کھاتے ہوئے اس جہنم چیونٹی نے محققین کو اس بات کا قطعی ثبوت فراہم کیا ہے کہ ان کے ‘سینگوں’ کو کس طرح استعمال کیا گیا تھا۔

سینگ کی ان حیرت انگیز خصوصیات کے علاوہ ، ان چیونٹیوں میں یہ صرف عمودی پائے جاتے ہیں۔ نئے پائے جانے والے جہنم چیونٹی کے نمونے کے شواہد کی مدد سے ، بارڈن اور اس کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عمودی اور افقی سینگ دونوں چیونٹی کے مربوط حصے ہیں جس کی وجہ سے اس نے شکار کو پکڑنے ہیں مدد دیتی ہے۔

آج تک ، سائنسدانوں نے چیونٹی کی 12،500 سے زیادہ مختلف اقسام کی دریافت کی ہے اور ان کے خیال میں ابھی 10،000 یا اس سے زیادہ کی شناخت ہونا باقی ہے۔

مزید پڑھیں: ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اسے 3000 سالہ قدیم نمونے کی جانچ پڑتال کے دوران ’خدا کا چہرہ‘ ملا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں