42

چوروں کو پڑ گئے مور

ایک عورت کسی کیس کی گواہی کے سلسلے میں عدالت میں حاضر ہوئی۔ وکیل نے گواہ پر چڑھائی شروع کرتے ہوئے بھرپور انداز میں عورت سے پوچھا: مائی نذیراں، کیا تم مجھے پہنچاتی ہو؟ مائی نذیراں:

میں تمہیں اس وقت سے جانتی ہوں میرے بیٹے جب تو ایک بچہ تھا۔ اور سچ پوچھو مجھے تم پر شدید افسوس ہے۔تم جھوٹ بولتے ہو۔ لڑائیاں تم کرواتے ہو، بیوی سے دغا بازی کرتے ہو، بازاری عورتوں کےپاس تم جاتے ہو اور تو اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے تم نہیں تھکتے۔

تم نے کریانے کے دس ہزار بھی تک نہیں دئے – شراب بھی پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی خالی ہے۔

ہاں ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں عورت نے کہا۔ وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کیا کہا: مائی نذیراں تم اس شخص کے بارے میں کیا جانتی ہو؟

مائی بولی : جیسے میں اسے نہیں جانتی ؟ ارے اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ پیمپر میں گھوما کرتا تھا اور سارا گاوں اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا کاہل ترین بندہ ہے اور ہر ایک سے نفرت ہی کرتا ہے، ہیروئنچی بھی ہے، کسی بندے سے یہ بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما ترین وکیل ہے۔ چار عورتوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی ہے۔

پرسوں جب تم اس طوائف کے ساتھ تھے تو یہ تمہارے گھر میں ہی تو تھا ، ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں عورت نے کہا۔

جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے بھی عورت سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہے تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں