32

سچ کہتے ہیں کہ وقت کبھی بھی ایک سا نہیں رہتا

ایک دفعہ دو سلطنت کے بادشاہوں میں گہری دوستی ہو گئی۔ دوستی اتنی گہری تھی کہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو اپنے خاندانی تہوار پر بلا لیتے۔ ان میں سے ایک بادشاہ کی بیٹی کی شادی کے دن قریب آئے تو اس نے دوسرے دوست بادشاہ کو دعوت پہ بلا لیا۔

شادی والے دن آنے والے بادشاہ نے اپنے دوست کی بیٹی کو خوب تحفے تحائف دیے کہ پہلا بادشاہ بھی حیران رہ گیا اور بول اٹھا کہ تم نے صحیح دوستی نبائی ہے اگر کبھی تم کو میری ضرورت پڑے تو بلا جحجک میرے پاس آ جانا۔

وقت گزرتا گیا اور کرنی خدا کی کہ دوسرے بادشاہ پر زوال آنا شروع ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جب برے دن آتے ہیں تو اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس بادشاہ کے ساتھ بھی ہوا۔ اور لوگوں نے اسے سلطنت سے الگ کر دیا اور کسی اور کو بادشاہ بنا لیا اسے سلطنت سے بھی بے دخل کر دیا گیا۔

اب بچارہ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ اتنے میں بیوی بولی آپ کو اپنا پرانا بادشاہ دوست کی بات یاد ہے۔ اس نے کہا تھا کہ مشکل وقت میں میرے پاس آ جانا۔ دونوں مرتے کیا نا کرتے۔ اس بادشاہ کے دربار میں آن پہنچے۔ بادشاہ ان کو اس حال میں دیکھ کر حیران رہ گیا اور دونوں کو شاہی مہمان خانے میں کچھ دن ٹھرایا۔

ایک دن بادشاہ نے اسے بلوایا اور کہا کہ۔ تمہاری بیوی یہاں رہے گی اور تم کو میں سو بکریوں کے ساتھ جنگل میں بھیج رہا ہوں وہاں تم کو کھانا اور کپڑے ملتے رہیں گے۔ اب تم میرے پاس تب آنا جب بکریوں کی تعداد دگنی ہو جائے۔ اس سے پہلے تم سلطنت میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔

بچارہ کیا نا کرتا بکریوں کے ساتھ جنگل شفٹ ہو کیا۔ اب ایک نئی مصیبت آن پڑی کہ بکریاں مرنا شروع ہو گیں۔ بادشاہ کے غلاموں نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ بکریاں کم ہوتی جا رہی ہیں خیر بادشاہ اپنے کاموں میں مصروف رہا۔

کچھ وقت اور گزرا تو بکریوں کی تعداد کچھ بڑھنا شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بکریاں دو سو سے بھی بڑھ گیں۔ اب بادشاہ کے غلاموں نے جب بادشاہ کو اطلاع دی تو بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا لیا اور اسے اس کی بیوی جوکہ اب تک بادشاہ کے پاس امانت کے طور پر رہ رہی تھی اسے واپس کی اور اسے ڈھیر سارا مال ع دولت دیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی سلطنت پر حملہ کر کے اس کو اس کی سلطنت بھی واپس دلوائی۔

دوسرا بادشاہ جب اپنی پہلی حالت میں واپس آیا تو حیران ہو کر اس نے پہلے بادشاہ سے پوچھا کہ اس کو بکریاں دینے اور پھر تعداد دگنی ہونے پر یہ سب کچھ کرنے میں کیا حکمت ہے۔

پہلا بادشاہ بولا۔ پہلے تم پر زوال کا وقت تھا اور زوال کے وقت میں اگر میں تمہارا ساتھ دیتا تو میں بھی ہار جاتا ۔ اس لیے تم کو جو بکریاں دی تھیں وہ بھی مر رہی تھیں۔ اب بکریاں بڑھنا شروع ہوئیں تو مجھے معلوم ہو گیا کہ اب تم پر بھی عروج شروع ہو گیا ہے اس لیے اب تم پھر بادشاہ بنے بیٹھے ہو۔

سچ کہتے ہیں کہ وقت کبھی بھی ایک سا نہیں رہتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں