75

اس دن مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اس سے کہیں زیادہ غلیظ ہوں۔ ایک سبق آموز کہانی

رات کے وقت میں آفس سے واپس آ رہا تھا کہ وہ اکیلی راستے پر کھڑی ہوئی ملی۔ سوچا اکیلی کھڑی ہے گھرچھوڑ دیتا ہوں لیکن مجھے کیا پتہ تھا وہ کال گرل ہے۔؟؟

گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہی وہ بولی گھر چلنا ہے یا ہوٹل ؟۔ اس کے سوال پر میں حیران ہو کر بولا میں نے تو ایسے ہی گاڑی روک دی تھی کہ لفٹ دے دوں گا وہ میری طرف دیکھی اور بولی میری شکل پر کیا بدھو لکھا ہے۔

سب کو پتہ ہے رات کو سڑکوں پر کیسی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس کی بات پر میں مسکرا دیا اور کہا کہ میں نے کبھی کسی بھی لڑکی کے بارے میں ایسا سوچا ہی نہیں۔آج دل کر رہا تھا کہ تم سے باتیں کروں پھر تم کو چھوڑ دوں گا۔

میں نے اس سے پوچھا تمھارا نام کیا ہے ؟

کہنے لگی میرا نام جان کر کیاکرو گے۔ بازاری لڑکی ہوں استعمال کی چیز ہوںاستعمال کرو اور پھینک دو۔ میں نے اس سے کئی سوال کیے ۔ وہ تھوڑی اداس سی ہو ئی پھر کہنے لگی مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سب کے ایک جیسے ہی سوال ہوتے ہیں تم مجھے کچھ الگ لگے تھے لیکن تم بھی ویسے ہی نکلے۔

ہم سے جو بھی ملتا ہے ہمارا نام ہی جاننا چاہتا ہے کبھی اپنا نام نہیں بتائے گا کہ بدنام نہ ہوجائیں ۔اگر میری جگہ آپ کی محبوبہ ہوتی تو کیا آپ پہلے اسے اپنا نام بتاتےاور بتاتے کہ کیا پسند ہے وغیرہ وغیرہ تاکہ وہ آپ کو یاد رکھے ۔

لیکن میں اچھی لڑکی نہیں ہوں اس لئے آپ نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتائیں گے آپ کو کون سا مجھے یاد رکھنا ہے۔ میں تو ہوں ہی استعمال کرنے کی چیز۔۔۔۔۔ وہ بولے جا رہی تھی اور میرے دماغ پر انگارے چل رہے تھے شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا اس نے کہا کہ ایک بازاری عورت کو کسی نے کبھی اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھا۔

میں نے ایک دم اسے بولتے ہوئے ٹوکا اور کہا کہ ایسی بھی بات نہیں میں آپ کو بُرا نہیں سمجھتا تو وہ بولی اچھا چلو پھر اپنی بیوی سے ملوانے گھر چلو اس کے اچانک اس سوال پر میری تو جیسے جان ہی نکل گئی وہ ہنس کر بولی مذاق کر رہی ہوں مجھے معلوم ہے یہ سب باتیں ہوتی ہیں اچھا بولنے اور اچھا کرنے میں فرق ہوتا ہے

پھر بولی میری جگہ آپ کی فرینڈ ہوتی تو آپ کا رویہ کچھ اور ہونا تھا بس فرق یہ ہے کہ میں ایک بدنام لڑکی ہوں لیکن اچھا برا مجھے بھی محسوس ہوتا ہے دکھ اور درد کا مجھے بھی معلوم ہے پیار اور نفرت کے بیچ کا فرق میں بھی سمجھتی ہوں

مرد جس سے محبت کرتا ہے اسے بولتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے سوچتا ہے کہ وقت یہیں تھم جائے لیکن ہمیں لوگ صرف دیکھتے ہیں اگر میں تمھاری محبت ہوتی تو تم مجھ سے لازمی یہ پوچھتے کہ کیا کھاؤ گی کیا پیو گی لیکن تم نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا حالانکہ میں نے دوپہر سے کچھ نہیں کھایا اور پیاس بھی لگی ہے لیکن میں جانتی ہوں تم کو محسوس نہیں ہوا ، اس دن مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ بری نہیں تھی میں اس سے کہیں زیادہ برا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں