115

بھارتی ذرائع ابلاغ: بھارتی دارالحکومت فوج کے حوالے کردیا گیا‘دلی چھاﺅنی کا منظرپیش کررہا ہے

نئی دہلی یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں کشیدگی اور پولیس سے جھڑپوں کے بعد بھارتی دارالحکومت دلی میں فوج تعینات کردی گئی ہے اور شہر کسی فوجی چھاﺅنی کا منظر پیش کر رہا ہے. بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈس بارڈر، لال قلعے اور میٹرو سٹیشن پر بڑی تعداد میں پولیس اور فوج کے دستے تعینات ہیں مودی سرکار کی جانب سے فوج کی تعیناتی کسان فرنٹ کی جانب سے یکم فروری کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے اعلان کی پیش بندی کے طور پر کی گئی ہے.ایک بھارتی چینل نے دلی پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد کے بعد اب تک پولیس پرتشدد مظاہرین کے خلاف مختلف دفعات کے تحت 15 ایف آئی آر درج کر چکی ہے دلی پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران 80 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زخمی اہلکاروں پر احتجاج کرنے والے کسانوں نے حملہ کیا تھا.منگل کے روز ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں ایک کسان بھی مارا گیا تھا جبکہ کسانوں کا ایک گروہ لال قلعے میں داخل ہوا اور سکھ مذہب کا پرچم وہاں لہرا دیا تھا بھارتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ مناظرلائیو دکھائے گئے کہ لال قلعے پر سکھوں کا مذہبی پرچم”نشان صاحب“لہرایا گیا مگر کئی چینل اسے رات گئے تک ”خالصتان“کا جھنڈا قراردیتے رہے‘واضح رہے کہ منگل کی صبح ہزاروں کسان مختلف رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے ٹریکٹروں سمیت داخل ہو گئے تھے تاہم کسانوں نے منگل کی رات ہی پریڈ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی.کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکائٹ نے کہا کہ پولیس نے متعدد ٹریکٹر توڑے ہیں اور انھیں اس کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا بھارت کی سینیئر صحافی سیما چشتی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ کسان رہنما بہت سمجھدار اور بہت مضبوط لوگ ہیں جو طویل عرصے تک تحریک چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں وہ اب تک انتہائی واضح اور سیدھے انداز میں بولتے رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ جس طرح سے سرکاری مشینری اور میڈیا پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اور یہ (لال قلعہ کا واقعہ) پورے معاملے سے توجہ ہٹانے کا سبب بنے گا یہ ان کی ذہانت کا ثبوت ہے کہ وہ تین قوانین کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ پوری کسان تحریک کو محض لال قلعے کے ایک واقعے سے نہ جوڑا جائے . ادھرزرعی امور کے ماہر دیویندر شرما کا کہنا ہے کہ کسانوں کو شرپسند یا دہشت گرد کہنا قطعاً غلط ہے انہوں نے کہا کہ کسان اپنے مطالبات کے بارے میں بالکل واضح ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی دیویندر شرما نے کہا کہ جو لوگ دھرنے میں بیٹھے ہیں وہ تکلیف اور اذیت میں ہیں انہیں امید تھی کہ دھرنے سے حل نکل آئے گا لیکن دو مہینے سے دلی کی سرحد پر بیٹھے کسانوں کی کسی نے دادرسی نہیں کی انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تین چار مہینوں سے تحریک چل رہی تھی لیکن کوئی حل نہیں نکالا جا سکا تھا.دیویندر شرما کا کہنا ہے کہ حکومت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تینوں قوانین کو واپس لے لینا چاہیے تاہم بی جے پی کے ترجمان واضح طور پر اس کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی حکومت نے 11 راﺅنڈز میں کسانوں کے ساتھ 45 گھنٹے بات کی قوانین میں 20 سے زیادہ تحریری تبدیلیوں کی یقین دہائی کروائی حکومت نے ان قوانین کو وقتی طور پر ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی اور کسانوں کے ساتھ مل کر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی لیکن کسانوں نے سب کچھ مسترد کر دیا.انہوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون واپس لینے کی بات کرنا جائز نہیں یہ اکثریت میں موجود کسانوں پر اقلیت کی رائے مسلط کرنا ہے اس سے ایک اور تحریک پیدا ہو سکتی ہے یہ سب سے اہم تبدیلی ہے جو 1991 کے بعد لائی گئی ہے اس سے قبل سب باتیں تو کرتے تھے لیکن کسی میں جرات نہیں تھی کہ وہ یہ قانون متعارف کروائیں جب بھی اصلاحات لانا ہوں گی، اس کے لیے سیاسی سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔

مودی نے اس میں سرمایہ کاری کی ہے حکومت میں واضح نظریہ ہے کہ یہ قانون کسانوں کے مفاد میں ہے اور لاکھوں کسان اس کی حمایت کر رہے ہیں.لیکن متحدہ کسان فرنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت جن کسانوں کو اکثریت بتارہی وہ ایک چھوٹی سے تعداد میں ہیں اور ان میں سے کئی تو سرے سے کسان ہی نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ ”سرکاری کسان“ لاکر حکومت ہماری تحریک کو کمزور نہیں کرسکتی انہوں نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ وقت آنے پر وہ پورے ملک کے کسانوں کو دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کال دے سکتے ہیں اکثریت اور اقلیت کو پوری دنیا دیکھ لے گی.سیما چشتی کہتی ہیں کہ دنیا ایک وبا کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہے اور بھارت بھی جدوجہد کر رہا ہے ان حالات میں تین متنازع قوانین متعارف کروا دیے گئے جن پر بحث بھی نہیں ہوئی اور وہ کسی کمیٹی کے پاس بھیجے بغیر ایک دن میں منظور کیے گئے ہیں تو یہ کس قسم کی اکثریت ہے؟کسان راہنماﺅں نے کہا ہے کہ وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ ایک یا دو دن میں کریں گے کسانوں نے یکم فروری کو بجٹ کے دن پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن سیما چشتی کو لگتا ہے کہ پارلیمنٹ مارچ اب ملتوی کیا جا سکتا ہے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے گی.انہوں نے کہا کہ حکومت ساری توجہ لال قلعہ کی جانب موڑ کر دباﺅ ڈالنا چاہتی ہے کہ کسان اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائیں مگر حکومت غلط سمت میں سوچ رہی ہے لال قلعہ کے واقعہ کے بعد ایک مقامی تحریک عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ الٹا یہ مودی حکومت اور خاص طور پر وزیر داخلہ کے لیے ان کے ریکارڈ پر بہت بڑا بدنما داغ ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر ہر جگہ ناکہ بندی ہے اور پولیس تعینات ہے سبھی جانتے ہیں کہ کسان ٹریکٹر ریلی کرنے جا رہے ہیں اور اگر حکومت اتنے بڑے قلعے کی حفاظت نہیں کر سکتی یہ کسانوں سے زیادہ حکومت پر دباﺅ ہے کہ جس سے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے گی کہ وہ اسے امن وامان کا معاملہ بنا کر پیش کرے تاہم وہ کسانوں کی اس تحریک کو کمزور ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

6 تبصرے “بھارتی ذرائع ابلاغ: بھارتی دارالحکومت فوج کے حوالے کردیا گیا‘دلی چھاﺅنی کا منظرپیش کررہا ہے

  1. I’m impressed, I have to admit. Seldom do I come across a blog that’s both educative and interesting, and without a doubt, you’ve hit the nail on the head. The problem is an issue that not enough men and women are speaking intelligently about. I’m very happy that I found this in my search for something concerning this. Here is my web page – sanayi blogu

  2. The road seemed to stretch on endlessly before us, but Alexis assured me that our journey was near an end. We’d turn before long into thick woods and travel through narrow, winding roads until we reached her family’s cabin. I had no choice but to trust her as GPS had given out nearly 20 minutes ago.

    “There’s good wifi and okay reception at the cabin,” she’d told me, “but you can’t get there unless you know the way.”
    https://medium.com/@rohanari457/caught-out-again-and-again-ch-03-5ef9f199c559
    So here I was, driving alone in the middle of god knows where with a girl who was my student just a couple of weeks ago. Her and her four best friends had been together from first grade all the way through high school and now they had graduated with very different futures ahead of them. They had decided to kick off “the best summer ever” with a week long stay at Alexis’s family cabin. Alexis and I were heading up before everyone else, the four other girls and four guys.

اپنا تبصرہ بھیجیں